بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 اب ان آیات کریمہ کے مطابق جو نتیجہ سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ  دین اسلام اللہ

کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا اور مکمل بھی اللہ نے کیا اب قیامت تک اسی پر عمل ہوگااور  نہ ہی اس میں کمی یا زیادتی ہو سکتی ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اگر کوئی اس کے خلاف کرے گا تو وہ شرک ہو گا جس کی بہت سخت سزا ہے ۔

اللہ  تعالیٰ کے ان اصولوں اور احکامات کے مطابق دین سے تعلق رکھنے والی کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے جس کا تعلق شرک سے ہو کیونکہ اللہ کے دین میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا ۔

 ذَٲلِكَ ٱلۡڪِتَـٰبُ لَا رَيۡبَ‌ۛ فِيهِ‌ۛ هُدً۬ى لِّلۡمُتَّقِينَ

ترجمہ :۔ یہ وہ کتاب  ہےاس میں کچھ شک نہیں  اور یہ ڈرنے والوں کے لیئے ہدایت  ہے ۔

(سورۃ البقرہ ۲

) اب اللہ تعالیٰ کے نام کے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے کیا حکم دیا ہے یا ہمیں آزاد چھوڑا ہے؟  نہیں  ایسا نہیں ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں اللہ تعالیٰ  کا حکم ،،

 وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِہَا‌ۖ وَذَرُواْ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِىٓ أَسۡمَـٰٓٮِٕهِۦ‌ۚ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ

ترجمہ !!!اور (اے ایمان والو)اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں ،اللہ تعالیٰ کو انہی ناموں سے پکارا کرو،اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اللہ کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں، جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں عنقریب إسکی سزا  إنہیں ملنے والی ہے ۔

( الاعراف ۱۸۰ )

  اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لفظ  استعمال کیا ہے  ،،(  یُلْحِدُوْنَ )  کے معنی و مصادر  اَلْحَدَ ،  یُلْحِدُ ،

اِلحَاد’‘ (باب افعال)  دین میں طعن کرنا ، جھکنا   و ہٹ جانا  ، لحد میں اتارنا ،  کجروی کرنا  ۔

اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کج روی و گمراہی اختیار کرنے کی چار صورتیں ہیں ۔جو بہت پہلے علماء نے بیان کردیں  مگر ان کے بعد والوں نے ان کی تحقیق کو کسی خاطر میں نہ لایا اور مکھی پر مکھی مارتے چلے گئے نہ آیات کو دیکھا اور نہ حدیث ِصححہ کو دیکھا بس اپنی ہی عقل اور مرضی سے ترجمہ اور تفسیر کرتے رہے اور عام لوگوں کو قرآن مجید کے ترجمہ سے اور غور فکر کرنے سے دور کر دیا  جس  کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے ۔ دیکھیں کہ  اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کجروی کیسے کیسے ہوتی ہے ۔

۔۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں تبدیلی کر دی جائے، جیسے مشرکین نے کیا ، مثلاً اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام سے اپنے ایک بت کا نام  لات اور صفاتی نام  عزیز  سے عزٰی  بنالیا ۔

 (فتح القدیر)

۔۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں اپنی طرف سے اضافہ کر لینا ، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے نہیں دیا ۔

(فتح القدیر)

۔۔ اللہ تعالیٰ کے ان ناموں میں کمی کر دی جائے جو اللہ نے سیکھائے ہیں  ۔

(فتح القدیر)

۔۔اللہ تعالیٰ کےناموں میں تاویل یا تعطیل یا تشبیہ سےکام لیا جائے ۔

(ایسر التفاسیر)

اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کج روی ایک قسم کا شرک ہے کیوں کہ یہ کام مشرکین نے کیا تھا ۔اور  اللہ تعالیٰ کو اپنی طرف سے نام دینا یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں زیادتی ہے، اور یہ اضافہ کج روی ہے ۔   اب مندرجہ بالا آیات سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں   خدا    لفظ کا تجزیہ کرتے ہیں ۔ سُوۡرَةُ الاٴعرَاف ۳  کے حکم کے مطابق یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا ۔ لہذا یہ  اللہ کا نام بھی نہیں ہو سکتا اب اگر کوئی بڑے سے بڑا عالم بھی کہے تو اس کی بات دین کا حصّہ نہیں بن سکتی اور نہ ہی ہم کو اس کی بات ماننا ضروری ہے  ۔    سورۃ المائدہ ۳   کے مطابق  دین  کامل ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام اور صفاتی نام بھی دین کا ہی حصّہ ہیں  لہذا دین میں یہ لفظ شامل نہیں ہے اور اللہ تعالیی کے کامل کیئے ہوئے دین میں کوئی زیادتی نہیں کرسکتا  ۔

اور سورۃ   شوریٰ    ۲۱ کے مطابق اگر  اپنی طرف سے اللہ کو یہ نام دیں گے تو یہ زیادتی ہو گی جبکہ اس کی اجازت اللہ تعالیٰ  نے نہیں دی لہذا ہم اللہ کے حکم کی خلاف ورذی نہیں کر سکتے ۔

 سورۃ  النساء  ۴۸ ،۱۱۶  

کے مطابق ایسا کرنا  شرک کے زمرہ میں آتا ہے اس لیئے اس سے نہیں بچیں گے تو  اپنا ہی نقصان کریں گے اس لیئے ہم شرک کرنے سے اللہ ربّ العالمین کی پناہ مانگتے ہیں  ۔  اور  سورۃ بقرہ ۲  کے مطابق  اللہ تعالیٰ کے دین میں کسی قسم کا شک بھی نہیں ہے ۔

کسی چیز کے بارے میں شک ہو کہ یہ دین کا حصّہ ہے یا نہیں تو شک کو چھوڑ کر یقینی چیز کو ہی اپنایا جاتا ہے یہی عقل سلیم کا تقاضا ہے، نہ کہ شک والی چیز کو ،  اور   خدا   کے بارے میں تو یہ بالکل واضح ہے کہ نہ یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کانام ہے  بلکہ ثابت شدہ ہے کہ یہ  لفظ  خدا  کہاں کہاں استعمال ہوتا ہے   فارسی میں یہ غیر اللہ کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ مثلاً بیوی اپنے شوہر کو مجازی خدا کہتی ہے۔۔ شاعر اور ادیبوں کو خدائے سخن کہتے ہیں ۔۔ کشتی کے ملاح کو ناخدا (ناؤ خدا) کہتے ہیں ۔۔ بادشاہ کو خدا وند نعمت کہتے ہیں ۔۔ اور سب سے بڑی بات کہ مجوسیوں کے عقیدے کے مطابق  دو خدا   ہیں ایک خدائے یزدان(اچھائی کا خدا) اور دوسرا خدائے اہرمن( برائی کا خدا) یعنی ان کا ہر خدا  ناقص ہے ۔ اور   اللہ تعالیٰ تمام کمزوریوں سے پاک و صاف ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین میں کوئی شک نہیں چھوڑا  اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے ۔  پھر بھی کسی کو شک ہو تو   تب بھی شک کی چیز کو چھوڑنا ہی ایمان کی نشانی ہے ۔ ایمان والوں کے لیئے تو ایک آیت یا ایک صحیح حدیث  ہی کافی ہوتی ہے اتنے واضح دلائل ہونے کے بعد بھی اگر کوئی نہیں مانتا تو پھر اس کو چاہیئے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرے  ۔   ہمارا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بیان کرنا  نہ کہ منانا ۔ ترجمہ !! اللہ نےانسان کےلیےہدایت کاواضح راستہ مقرر کردیاہےاب اُس کی مرضی ہے کہ وہ شکرگزار  بندہ بنے یا وہ کفر کرے۔

( سورۃ الدھر ۳ )

ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو صرف اللہ کہہ کر پکاریں یا لکھیں  تو قرآن کا حصّہ ہونے کی وجہ سے  چالیس نیکیاں بھی ملیں گی ۔                            ولحمد للہ ربّ العالمین

دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے ہی کامل کیا ہے اب اس میں کسی قسم کی کمی یا

زیادتی نہیں ہو سکتی ۔

أَمۡ لَهُمۡ شُرَڪَـٰٓؤُاْ شَرَعُواْ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمۡ يَأۡذَنۢ بِهِ ٱللَّهُ‌ۚ وَلَوۡلَا ڪَلِمَةُ ٱلۡفَصۡلِ لَقُضِىَ بَيۡنَہُمۡ‌ۗ

وَإِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ۬  ترجمہ ! کیا انہوں نے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں جنہوں  نے اِنکے لیئے  دینی شریعت(قوانین) بنائی ہے ،  حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی اجازت نہیں دی ،اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے  ۔

(سورۃ الشوریٰ-۲۱)

یعنی دین اسلام میں کچھ بھی بدلنے یا نئی چیز داخل کرنے کی یا دین کی کسی بات کو کم کرنے کی اجازت اللہ تعالیٰ نے نہیں دی ۔اگر کوئی ایسا کرے گا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو اللہ تعالیٰ کے شریک بنانا کہا ہے ۔ اور شرک کسی صورت بھی معاف نہیں کیا جائے گا ۔

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٲلِكَ لِمَن يَشَآءُ‌ۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِاللَّهِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَـٰلاَۢ بَعِيدًا

ترجمہ:۔بے شک اللہ ﷻ شانہ   شرک کو نہیں  بخشے گا  ، اور اس کے  علاوہ  جس گناہ  کوجس کے  لیئے  چاہے گا بخش  دے  گا  اور  جس شخص نے  اللہ ﷻ شانہ   کے ساتھ(ذرہ برابر)  شرک کیا  وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔

(سورۃ النسأء ۱۱۶+۴۸ )

ٱتَّبِعُواْ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُمۡ وَلَا تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِۦۤ أَوۡلِيَآءَ‌ۗ قَلِيلاً۬ مَّا تَذَكَّرُونَ (٣)

 ترجمہ :۔ (اے لوگو)جو شریعت  تم پر تمہارے ربّ  کی طرف سے نازل ہوئی ہے، اس کا اتباع  (پیروی)کرو اور اس کے علاوہ دوسرے ولیوں (وغیرہ)کی پیروی نہ کرو، مگر تم( لوگ )بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

(سُورَةُ الاٴعرَاف ۳  )

یعنی جو چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوئی وہ قابل حجت نہیں ہے اور نہ ہی وہ  دین اسلام ہے ۔ اس لیئے دین کے  احکام ومسائل ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہوں  تو پھر ان پر چلا جائے اور ان کے مطابق ہی عمل کیا جائے ۔

ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَـٰمَ دِينًا

ترجمہ :۔آج میں نے تمہارے لیئے  تمہارا   دین  مکمل کر دیا، اور اپنی نعمت پوری کر دی اور  تمہارے لئے اسلام ہی کو بطور دین پسند کر لیا  ہے ۔   

(سورۃ المائدہ  ۳ )

خالق کائنات کا اسم ذات صرف ایک ہے اور وہ    اللہ  ہے

لیکن اسکی صفتیں بے شمار ہیں

اللہ تعالیٰ کی تمام  صفات اعلیٰ  و  ارفع ہیں  اسکی کوئی صفت ناقص نہیں  لہذا اِن صفات ِ کاملہ سے جو  صفاتی نام بنتے ہیں وہ سب اچھے نام ہیں اور وہ سب اللہ تعالیٰ نے بتا دیئے ہیں  ۔  اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر ہم اس کے صفاتی نام بھی نہیں جان سکتے کہ اُس کے لئے کون سا نام شایانِ شان اور اچھا ہے ۔کچھ لوگ اس بات پر اپنی ذاتی فہم اور اپنے  ذاتی قیاس سے اللہ تعالیٰ کو  خدا  کہنے کو  جائز  قرار دیتے ہیں ۔ جس سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں ۔

اس لئے ضروری ہے کہ اس نظریہ کو قرآن مجید اور صحیح احادیث کے ناقابلِ انکار معیار  کے مطابق تحقیق  کرکے صحیح اور غلط کا فیصلہ کیا جائے ۔ مختصراً  سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ دین  اسلام کیا ہے ۔

دین کے اصول  اللہ تعالیٰ  کے  فرمان کے مطابق