بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:-

اور جب قرآن پڑھا جائے تو اُسے غور سے سُنو اور خاموش رہو۔

(سورۃ الاعراف – ۲۰۴)

جب آپ امام کے پیچھے نماز پڑھیں تو امام کے سکتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھا کیجئے

صحابہؓ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اس وقت پڑھتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکتہ کرتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تو صحابہؓ کچھ نہیں پڑھتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکتہ کرتے تو صحابہؓ پڑھتے تھے۔

(کتاب القراءۃ للبیہقی صـ۶۹ و سندہ صحیح – کتاب القراءۃ للبیہقی صـ۵۵)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسکتے کیا کرتے تھے، ایک اس وقت جب آپ نماز شروع کرتے اور ایک اس وقت جب آپ پوری قرأت سے فارغ ہوتے۔

(رواہ ابوداؤد جلد اوّل صـ۱۲۰ و الترمذی و سندہٗ صحیح – تعلیقات احمد محمد شاکر علی الترمذی)

اس سے ثابت ہوا کہ امام کو دو سکتے کرنے چاہئیں ایک نماز شروع کرتے وقت اور ایک رکوع سے پہلے تا کہ مقتدی ان سکتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھ سکیں

(صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ)

(امام کے پیچھے) کچھ نہ پرھا کرو سوائے سورۂ فاتحہ کے اس لئے کے اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

(رواہ ابوداؤد جلد اوّل صـ۱۶۲)

اما م جب بلند آواز سے قرت کرے تو آپ غور سے سنتے رہیئے اور خاموش رہیئے

جو شخس سورۂ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔

(صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ)

بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو میں سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے۔

سورۂ فاتحہ کی فضلیت