بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اپریل فول جھوٹوں کی یلغار میں یہود و نصاریٰ کی پیروی

اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو بتوں کی ناپاکی کے ساتھ ذکر کیا ہے اس سےجھوٹ کی برائی کا اندازہ لگا سکتےہیں کہ جھوٹ بولنا کتنا سخت گناہ ہے ۔ مگر افسوس کہ آج  اکثریت ایمان کا دعوٰی کرنے کے باوجود اپریل فول جیسے  قبیح   اور گمراہ فعل کو  منانے میں خوشی اور فخر محسوس کرتی ہے ۔

     ملاحظہ فرمائيں اللہ ربّ العالمین کا فرمان ِ عالیشان

  ذَٲلِكَ وَمَن يُعَظِّمۡ حُرُمَـٰتِ ٱللَّهِ فَهُوَ خَيۡرٌ۬ لَّهُ ۥ عِندَ رَبِّهِۦ‌ۗ وَأُحِلَّتۡ لَڪُمُ ٱلۡأَنۡعَـٰمُ إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡڪُمۡ‌ۖ فَٱجۡتَنِبُواْ ٱلرِّجۡسَ مِنَ ٱلۡأَوۡثَـٰنِ وَٱجۡتَنِبُواْ قَوۡلَ ٱلزُّورِ

ترجمہ  !!!   یہی حکم ہے اور جو الله کی معزز چیزوں کی تعظیم کرے گا سو یہ اسکے لیے اس کے رب کے ہاں بہتر ہے اور تمہارے لیے مویشی حلال کر دیئے گئے ہیں مگر وہ جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں پھر بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرو   

(سورة الحج۳۰)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے ۔

مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولے۔

(رواہ الترمذی و احمد سندہُ حسن۔بلوغ الامانی،ابوداﺅد سندہُ صحيح۔ تعلیقات للالبانی علٰی مشکٰوۃ۔۔)

خوش طبعی کرے لیکن جھوٹ نہ بولے۔۔

(رواہ الطبرانی فی الاوسط و سندہُ حسن ،مجمع الزوائد جزء ۹ ص ۱۷ ۔۔)

ایسا مذاق جس میں جھوٹ ہو سنے بھی نہیں۔۔

(رواہ احمد و ابوداﺅد و النسائی و الترمذی و سندہُ حسن۔بلوغ جزء ۱۹)

مذاق میں بھی کسی مسلم کو نہ ڈرائيں ۔

(رواہ ابوداﺅد و نیل الاوطار جزء ۵ ۔۔)

اب غور کریں کہ جھوٹ کتنا بڑا قبیح فعل ہے۔اس کے باوجود ہرعام و خاص اپریل فول

بنانے اور بننے میں خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ کیا ان لوگو ں کو جھوٹ کی تباہ کاری کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا اندازہ ہے ۔ کتنے گھروں کی خوشیاں برباد ہو جاتی ہیں۔ ان کی جگہ اپنے آپ کو رکھ کر محسوس کریں شاہدبات سمجھ میں آ جائے۔

                                                اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو جھوٹ سے بچائے ۔

                                  اور امت مسلمہ کی خیر خواہی کی توفیق عطا فرمائے  آمین ثم آمین