فرقوں سے علحیدگی ضروری ہے


اختلاف اور فرقہ بندی کی شرعی حیثیت کے بارے میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں کیٰ مرتبہ اپنی گذارشات پیش کرچکے ہیں۔ ہم یہ بھی عرض کرچکے ہیں کہ تمام فِرقوں کے فرقہ وارانہ نام ان کے خود تجویز کردہ ہیں، قرآن مجید اور حدیث میں ان ناموں کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ ہماری دعوت کو بہت سے لوگوں نے پسند کیا بہت سے لوگوں نے تعاون کا بھی یقین دلایا، لیکن بات یہاں پہنچ کر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ یہاں سے تو ابتداءہوتی ہے۔ فرقہ بندی سے قولاً اطہار نفرت لیکن عملً فرقوں سے خلط ملط ناقابل فہم ہے! کسی چیز سے نفرت کرنا پھر اس سے وابستگی قائم رکھنا حیرت انگیزی سے اسےا یمان کی کمزوری بھی کہا جاسکتا ہے اور قول و فعلِ کا تضاد بھی۔


لغوی اعتبار سے فرقہ آپ جسے چاہے کہہ لیں لیکن اسطلاحی لحاظ سے فرقہ وہ ہے جس نے اصل راستہ سے افتراق کیا، اپنے مذہب کے لئے علیحدہ اصول فروغ بنائے۔ اپنی کتابیں علحیدہ بنالیں، اپنا فرقہ وارانہ نام بھی علحیدہ رکھ لیا۔ کسی شخص مخصوص کو خود اپنا امام بنا کر اس کو سر چشمہ ہدایت سمجھ لیا۔ قرون اولٰی میں جس چیز کو سر چشمہ ہدایت سمجھا گیا تھا اس سے قطعِ نظر کر کے اپنے امام یا کسی عالم کے اقوال و افعال کو سر چشمہ ہدایت سمجھ لیا۔


یہ تو جو کچھ  ہوا، ہوا، سوال یہ ہے کے جن لوگوں نے فرقوں کے وجود کو بُرا سمجھا، افتراق و اختلاف کو لعنت سمجھا انہوں نے کونسا کارنا مہ انجام دے دیا۔کسی کو بُرا سمجھنا اور عملاً اُسی چیز کو اختیار کرنا یہ کونسی خوبی ہے جس پر ناز کیا جائے! بلکہ یہ تو فریب لفس ہے۔ اگر یہ لوگ واقعی فرقوں کو بُرا سمجھتے ہیں پھر ان کے ساتھ دینی روابط کیوں قائم ہے۔ ان کے پیچھے نماز کیوں ادا کی جارہی ہے، ان کی نمازِ جنازہ کیوں پڑھی جارہی ہے۔ کیا ان کا یہ طرز عمل اس بات کو ظاہر نہیں کر تا ان فرقوں سے ان کو نفرت صرف زبان کی حدتک ہے۔ کیوں کے اعمال قلب کی عکاسی کرتے ہیں، لہٰذا یہ کیوں نہ سمجھ لیا جائے ان میں فرقہ بندی سے حقیقی نفرت نہیں، بلکہ گمراہی فرقوں سے دینی روابط اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ ان کو گمراہ نہیں سمجھا جارہا، ان کے پیچھے نماز ادا کی جارہی ہے تو کیوں یہ سمج کر ادا نہیں کی جارہی ہے کے نماز ہو جائے گی۔اس طرزعمل نے یہ ثابت نہیں کردیا کہ فرقہ بندی کو بُرا سمجھنے والوں کے نزدیک بھی یہ تمام فرقے حق پر ہیں؟ اگر فرقہ بندی نفرت کرنے والوں کا عمل ان کے فرقوں کے حق پر ہونے کی شہادت دے رہا ہے تو محض زبان سے ان کو گمراہ کہنے سے کیا فائدہ ہوگا! یہ لوگ خود بھی دھوکے میں رہے گے اور دوسروں کو بھی گمراہی کا سبب بنے گے۔

،اللہ تعالٰی فرماتا ہے


اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَھُمْ وَکَانُوْاشِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْءٍ۔

بے شک جن لوگوں نے دین میں اختلاف کیا اور فرقہ فرقہ بن گئے(اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کا اُن سے کوئی سروکار نہیں۔

۔(انعام – 159)۔


سوچیئے کیا جو حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جارہا ہے یہ لوگ اس کے مکلّف نہیں؟ کیا ان فرقوں سے دینی روابط رکھ کر اس آیت کی خلاف ورزی نہیں کی جارہی؟


رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکمِ الٰہی کی خود بھی تعمیل کی اور اُمّت کو بھی اس حکم کی تعمیل کا حکم دیا۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو تَلْزَمُ جَمَاعَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ(تم کو جماعت المسلمین سے وابستہ رہنا ہوگا- صحیح بخاری و صحیح مسلم) کا حکم دے کر اہل حق کو تمام فرقوں سے علحیدہ کردیا تھا، بلکہ یہی نہیں اضطرارلمی کیفیت میں بھی جبکہ حرام چیز بھی حلال ہوجاتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فرقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صاف فر مادیا (اگر جماعت المسلمین نہ ہو تب بھی) فَاعْتَزِلْ تِلْکَ الْفِرَقَ کُلَّھَا : تمام فرقوں سے علحیدہ ہوجانا۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔


ان احکام کی موجودگی میں اگر حق پرست لوگوں نے ان فرقوں سے علحیدگی اختیار نہیں کی  تو کیا انہوں نے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مانا؟ ہرگز نہیں۔


مندرجہ بالا وضاحت کے بعد ہم اپنے متّفقین حضرات سے عرض کرتے ہیں کسی گمراہ شخص کے پیچھے صلوٰۃ ادا کرکے آپ اُس کو بلند دینی مقام دے رہے ہے۔ کیا اس کا نام علحیدگی ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ تو پھر آپ سے گذارش ہے کہ حقیقی علحیدگی اختیار کر کے اپنے ایمان اور نماز کی حفاظت کیجیئے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم