بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

                 کیا ایسا ترجمہ کرنے سے اللہ اور رسول پر ایمان باقی رہ سکتا ہے ؟؟

                          کیااس سے زیادہ اور رسالت کی توہین ہوسکتی ہے ؟؟

ایسا غلط  ترجمہ یا اِسی مفہوم کا ترجمہ کرنے والوں میں سرفہرست  مولوی محمود الحسن صاحب دیوبندی  ،  ڈپٹی نذیر احمد صاحب دہلوی  ، مولوی اشرف علی تھانوی صاحب  دیوبندی ، خطیب الہند مولوی محمد جوناگڑھی ، فتح محمد جالندھری وغیرہ تو   ہیں  ہی ، اس کےعلاوہ بھی ایسے تراجم  کرنے و الے بہت ہیں  ۔

إن سب نے   ذَنب  کا ترجمہ گناہ کیا ہے، جبکہ ذَنب  کاترجمہ  الزام بھی ہے ۔جو کسی پر بھی لگ سکتا ہے ۔  ذَنب  کے معنی ہر حال میں گناہ نہیں ہوتا ۔  ذَنب کے معنی الزام بھی ہوتا ہے ۔ ذَنب کے معنی !! ہر وہ کام جس کا انجام برا ہو  اور الزام  کا انجام بھی برا  ہی ہوتا ہے کیونکہ جس پر الزام لگتا ہے لوگ اس سے متنفر  ہو جاتے ہیں  اور اس کی حق بات بھی سننا  گوارہ نہیں کرتے ۔  الزام لگاناہے۔ (مفردات امام راغب)

اس طرح   غَفْرٌ کے معنی بھی غلط کئے گئے ۔ غفر کے معنی بچانے کے بھی ہیں اور درست کرنے کے اور اصلاح کرنے کے بھی ہیں  ازالہ کرنے کے بھی ہیں ۔

                           اب ملاحظہ فرمائیں سورۃ فتح کی ان آیات کا صحیح

ترجمہ

  صحیح ترجمہ  !!    (اے رسول)  ہم نے آپ کوفتح  مبین  عطا  کی تاکہ اللہ آپ پر لگائے گئے اگلے پچھلے تمام الزامات کی اصلاح فرمائے اور آپ پر اپنی نعمت پوری کر دے اور آپ کو سیدھے راستے پر چلاتا رہے ۔ (بے شک) اللہ آپ کی (ہرموقع پر) زبردست مدد کرے گا ۔

( سورۃ الفتح ۱ تا ۳ )

اگر تمام مترجمین قرآن عزیز اور صحیح احادیث کو غور سے پڑھ کر اور اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے پیش کردہ مرتبے اور شان کو سامنے رکھ کر ترجمہ کر لیتے تو اتنی بڑی غلطی نہ ہوتی ۔ مگر افسوس کہ اب بھی موجودہ علماء اور مولوی صاحبان ان غلطیوں کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ اگر کوئی ان کی غلطی کی نشان دہی کرے بھی تو یہ اس کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے ماننے کے لیئے بھی تیار نہیں ہیں  اور نہ اس کی اصلاح کے لیئے تیار ہیں ۔ کیا ایمان کا یہ معیار ہوتا ہے ؟؟؟

 اب  غیر مسلم مورخین کی کتابوں سے چند اقتباسات پیش کیئے جاتے ہیں ۔ جو ایمان نہیں لائے مگر حق بیان کرنے میں انہوں نے ایمانداری سے کام لیا ہے ۔  

٭  : ای ڈرمِنگم لکھتے ہیں    : محمد(ﷺ) اس اعتبار سے دنیا کے واحد پیغمبر ہیں جنکی زندگی

ایک کھلی کتاب کی طرح ہے ، ان کی زندگی کا کوئی گوشہ چھپا ہوا نہیں بلکہ منوّر اور روشن ہے ۔

   لائف آف  محمد ۔ اشاعت   ۱۹۳۰ ؁The  life of  Mohammad , pub  1930

٭  :  بی اسمتھ لکھتے ہیں :  محمد(ﷺ) کی زندگی اسرار میں پھیلی ہوئی ہے اور نہ اس پر کسی قسم کے سائے ہیں ،   ہم محمد(ﷺ) کے بارے میں لوتھر اور مارٹن سے بھی کہیں زیادہ جانتے ہیں ۔ محمد(ﷺ) کی ذات (اقدس) کے ساتھ دیومالائی ، لیجنڈری اور مافوق الفطرت عناصر سے وابستہ نہیں بلکہ آپکی پوری زندگی کی تفصیل تمام جزیئات کے ساتھ ہمارے پاس پہنچی ہے ۔ آپکی زندگی  دراصل سورج کی طرح ہے جسکی کرنیں پوری دنیا کا احاطہ کرتی ہیں۔ آپ کے کردار کا سب سے حسین پہلو آپکی جاہ  وحشم سے بے نیازی ہے ۔ آپ قانون ساز ، تاریخ ساز ، حکمران ،جرنیل اور قاضی تھے ۔

اسکے باوجود آپکی شخصیت کا نمایاں ترین پہلو یہ ہے کہ وہ اللہ کے پیغمبر تھے اور اللہ کا پیغام دنیا تک پہنچانے کیلئے تشریف لائے تھے ۔ زہد وعبادت میں اِن کا کوئی ثانی نہیں  اور اِن کی کامرانیوں کی مثال نہیں ملتی ۔

محمد(ﷺ) اور محمدن ازم    اشاعت    ۱۸۷۴ ؁    Mohammed and Mohammedanism, pub 1974

٭  :  جی ایم ڈریکاٹ   لکھتے ہیں  :  دنیا کا کوئی پیغمبر  محمّد (ﷺ) کی طرح ایسے معاشرے اور سماج کی بنیاد نہ رکھ سکا جو مثالی ہو اور آنے والے زمانے کیلئے تقلید کی ترغیب دیتا ہو ۔ ہم سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں ۔ ایک ایک تفصیل اور تمام جزئیات منفرد اور روشن ہیں ۔

٭  :  سرولیئم مور لکھتے ہیں  : یہ دیکھنے کیلئے اور ثابت کرنے کیلئے کہ محمّد(ﷺ) کے پایہ استقلال میں لغزش  پیدا ہوئی ،اگر ہم تاریخ کی ورق گردانی کریں گے تو یہ  بے کار عمل ہو گا کیونکہ محمّد(ﷺ) نے تیرہ  برس  جو جدّوجہد  ، حوصلہ شکنی ،دھمکیوں ،خطروں،استبداد اور سزاؤں کے مقابلے میں جاری رکھی اسکی مثال تاریخ پیش نہیں کر سکتی ۔

   ( لائف آف  محمّد ۔ اشاعت   ۱۸۶۱ ؁ ) The  life of  Mohammad , pub  1961       

٭  :  ڈی ۔ایس ۔مارگولیوتھ  لکھتے ہیں   : اپنی اپنی جگہ قابلِ احترام ہونے کے باوجود ان

سب پیغمبروں میں ایک بھی ایسا نہ تھا جِس نے عبادت ،اللہ کی اطاعت اور دینی ایثار میں محمّد

(ﷺ) جیسی مثال قائم کی ہو ۔ ( محمّد اینڈ  دی  رائز آف اسلام )  Mohomed and the rise of   Islam  

٭  :  آر۔ وی۔ سی بوڈلے لکھتے ہیں   : موسیٰؑ،کنفیوشش  اور بدھ کے بارے میں ایسا کوئی ریکارڈ  محفوظ نہیں رہا جو ہم تک پہنچا ہو  اور ہم اِن کے پورے حالات سے واقف ہو سکتے ،اسکے علاوہ  عیسیٰؑ کی ابتدائی تیس سال کی زندگی پر  پردہ پڑا ہوا ہے ، اسکے بر عکس  محمّد(ﷺ) کی پوری زندگی ہم پر روشن اور عیاں ہے ۔      ہم محمّد (ﷺ) کے بارے میں اتنی زیادہ معلومات رکھتے ہیں کہ  جتنی إس شخص کے بارے میں  جو ہمارے اپنے عہد کا ہو ۔   آپ کے بارے میں سارا ریکارڈ جو آپکی جوانی ، آپکے رشتہ داروں ، عادات  اور بچپن کے بارے میں موجود ہے  جو نہ لیجنڈری ہے اور نہ سناسنایا ۔ إنکے باطنی ریکارڈ  کے بارے میں ہم ایک ایک تفصیل سے آگاہ ہیں،اُنکی زندگی میں کسی قسم  کی پراسراریت کا شائبہ تک نہیں ملتا ۔

  اِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحً۬ا مُّبِينً۬ا (١) لِّيَغۡفِرَ لَكَ ٱللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنۢبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهُ ۥ عَلَيۡكَ

وَيَہۡدِيَكَ صِرَٲطً۬ا مُّسۡتَقِيمً۬ا (٢)وَيَنصُرَكَ ٱللَّهُ نَصۡرًا عَزِيزًا (٣)

(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو فتح دی۔ فتح بھی صریح وصاف (۱) تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردے اور تمہیں سیدھے رستے چلائے (۲) اور خدا تمہاری زبردست مدد کرے (۳)،،،،  یہ ترجمہ فتح محمد جالندھری صاحب کا ہے جو نٹ پر موجود ہےیہ وہیں سے پیسٹ کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ  بھی اس طرح کا ترجمہ کرنے والے بھی بہت ہیں  آگے تفصیل آرہی ہے ۔

 غلط ترجمہ !!! ( اے رسول ) ہم نے آپ کو کھلی فتح دی تاکہ اللہ آپ کے تمام اگلےپچھلے گناہوں کو معاف کر دے ، آپ پر اپنی نعمت پوری کر دے ، آپ کو سیدھے راستہ پر چلا کر منزل مقصود پر پہنچائے اور آپ کی زور دار مدد فرمائے ۔

( سورۃ الفتح  ۱ تا ۳ )

 مندرجہ بالا شوخ روشن کیےگئے الفاظ پر غور کریں ،کیا رسول اللہﷺ ان آیات کےنازل ہونےسے پہلےبھی گناہگاراور بعد میں بھی گناہگار ہوسکتےہیں ؟؟  

                                       نہیں ہر گز نہیں  وہ تو معصوم ہیں ۔

 ترجمہ !!(یہ رسول)اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتےوہی کہتے ہیں جو ان کی طرف وحی کی جاتی ہے

۔(سورۃ النجم ۳ ، ۴ )

  جب رسول اللہﷺاپنی خواہش سے کچھ بھی نہیں کہتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آنے کے بعد ہی بتاتے ہیں یعنی ان کی رہبری و رہنمائی اللہ خبیر و بصیر کر رہا ہے تو پھر گناہ

کا ان سے کیا تعلق۔

ترجمہ!! جس نے رسول کی اطاعت کی (دراصل)اس نے اللہ کی ہی اطاعت کی

 ( سورۃ النسآء  ۸۰)

ایسے رسولﷺ معصوم جن کی اطاعت در اصل اللہ تعالیٰ کی ہی اطاعت ہو ،  وہ پھر بھی گناہ

کریں یہ کیسے  ممکن ہے  ؟؟؟ اللہ تعالیٰ کی اطاعت   و  رہنمائی میں رسول اللہ ﷺکیسے گناہگار ہو

سکتے ہیں؟؟؟

 ترجمہ !!  تم لوگوں کے لیے جو اللہ سے اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ان کے لیے رسول ﷺ  کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ۔ (سورۃ الاخزاب ۲۱)

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول ﷺ  کو قیامت تک تمام انسانوں کے لیےنمونہ بنا کر اس دنیا میں بھیجا ۔

      کیا اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے کسی گناہگار کو نمونہ بنا کر بھیج سکتا ہے؟؟ ؟         نہیں ہر گز نہیں  

 سورۃ عبس   ۱ تا  ۳  کا   غلط ترجمہ  جس سے (نعوذ باللہ من ذلک)  رسول اللہ ﷺ  بد اخلاق ثابت ہو رہے ہیں ۔

               سُوۡرَةُ عَبَسَ

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ (١) أَن جَآءَهُ ٱلۡأَعۡمَىٰ (٢)  وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّهُ ۥ يَزَّكَّىٰٓ(٣)

غلط ترجمہ !!! پیغمبرﷺ چیں بجبیں ہو گئےاور متوجہ نہ ہوئے ۔ (۱)اس بات سے کہ ان کے پاس اندھا آیا۔ (۲)اور آپ کو کیا (خبر) شاید نابینا (آپ کی تعلیم سے پورے طور پر) سنور جاتا۔ (۳)

درج بالا  ترجمہ  اشرف علی تھانوی صاحب کا ہےجو نٹ پر موجود ہے وہاں سے ہی پیسٹ کیا گیا ہے ۔

اس کے علاوہ بھی بہت سے مترجمین نے اسی طرح کے ترجمے کیئے ہیں ۔

غلط ترجمہ!! تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا ،اسلیئے کہ اس کے پاس ایک نابینا آگیا، اور (اے رسول )

آپ کو علم نہیں شاہد وہ پاکی حاصل کرتا ۔(سورۃ عبس   ۱ تا ۳)   

      صحیح حدیث   :   انسؓ  بیان کرتے ہیں    !  ابنِ ام مکتوم ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے  آپﷺ اس وقت  ابی بن خلف سے بات کر رہے تھے ۔ اُس(ابی بن خلف) نے إن سے اعراض  کیا  اس وقت یہ آیت  نازل ہوئی ،، عَبَسَ وَتَوَلّٰی،،

(مسند ابی یعلیٰ جزء ۵ ؃۴۳۲ سندہٗ صحیح) ۔  

       یعنی ایک کافر کے فعل کو إن ناسمجھ اور نادان مترجمین و مفسرین  نے اللہ کے رسول ﷺکی طرف منسوب کر دیا  کسی نے بھی تحقیق کی زحمت  گوارا نہیں کی سب مکھی پر مکھی مارتے رہے ۔  اِنا للہِ وَإنا إلیہ ِراجِعون ۔

اس حدیث  میں بیان کردہ شان نزول کی روشنی میں   ترجمہ کیا جاتا تو پھر کوئی اعتراض باقی نہ رہتا ۔     اب ملاحظہ فرماہیں  صحیح ترجمہ   ! (اُس کافر نے) تیوری چڑھائی اور پیٹھ  موڑ  کر چلا گیا  جبکہ اس کے پاس ایک نابینا آیا ۔ (سورۃ عبس   ۱ تا۳)  

 غور طلب  بات یہ ہے کہ  یہ آیت نازل ہوئی پیٹھ موڑ کر  جانے والے کافر کے لیئے نہ کہ مجلس میں رکے ہوؤں کیلئے ۔ اور اللہ کے رسول ﷺوہاں موجود ہیں ۔  پھر بھی ہمارے نام نہاد علماء نے خلاف  قرآن مجید  وصحیح احادیث اور خلاف عقل تر جمہ کر کے اپنی نااہلی کا ثبوت دیا  ۔  

اب سورۃ فتح ۱ تا ۳  کا   غلط ترجمہ ملاحظہ  فرمائیں ،،، جس سے ( نعوذ باللہ من ذلک )  رسول اللہ ﷺ  گناہگار ثابت ہو رہے ہیں ۔

سُوۡرَةُ الفَتْح

بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم

عظمتِ رسول ﷺیہ  ایک ایسا مضمون ہے جس  کیلئے قرآنِ مجید  اور صحیح احادیث میں بے شمار دلائل موجود ہیں ۔ اگر اُن کی روشنی   میں عظمت رسولﷺ پر لکھا جائے تو  کتابوں کا انبار لگ سکتا ہے ۔یہاں پر صرف   اللہ کے رسول ﷺکی عظمت  کے بارے میں غیر مسلم مورخین کس طرح خراج تحسین پیش کرتے ہیں آپکی   خدمت  میں پیش کرتا ہوں  ۔اس عظمت   کی طرف آپ کی توجہ دلانا مقصود ہے جو ہم بھول چکے ہیں ۔ اور کچھ مذہبی پیشواؤں اور نام نہاد علماء نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر دینِ اسلام اور قرآنِ مجید اور صحیح احادیث پر  پردے ڈال رکھے ہیں ۔اورعظمت ِ رسولﷺ کو پیش کرنا تو دور کی بات ہے إنہوں نے  تو  رسول اللہ ﷺ کو قرآنِ مجید کے تراجم اور تفاسیر میں،نعوذ باللہ من ذلک، بداخلاق اور گناہگار ثابت  کرنے کی ناکام کوششیں کی  ہے ۔   جبکہ رسول ﷺ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سند دے دی کہ آ پﷺ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں ۔

 ترجمہ   ( اے رسول!) بے شک آپ عظیم(الشان)اخلاق پر فائز ہیں ۔

سورۃ القلم ۴

کیا ایسے عالیشان  اور بلند رتبہ رسول  بد اخلاق ہو سکتے ہیں ؟؟؟     نہیں ہر گز نہیں

 اب ملاحظہ فرمائیں

                                                        والحمدللہ ربّ العالمین

  (ٹرانسفارمنگ   لائٹ ۔  ۱۹۷۰ )        . 1970     Transforming Light

    یہ ہے ہمارے رسول محمّدﷺکی عظمت  ،   عصمت  ،  معصومیت  ، شرافت اور اخلاقیات جس کو غیروں نے  بھی  تسلیم کیا  کہ اُن جیسے خصائل کسی دوسرے  میں نہیں ہیں اور نہ ہی ہوں گے  ۔

  انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ رسول اللہﷺ کی حیات ِ طیبہ کا کوئی گوشہ چھپا ہوا نہیں ہے اور جو کچھ اُن کے بارے میں ہم تک پہنچا  وہ صحیح ثبوت کے ساتھ ہے اور ایسے روشن اور  منوّر ہے جیسے سورج  اُن کی حیات پر کسی قسم کے سائے نہیں ہیں  اور نہ ہی اُن کے ساتھ کوئی دیومالائی کہانیاں منسوب ہیں ۔

پوری تاریخ میں اُن کی کوئی معمولی سی بھی لغزش نہیں ملتی ،بلکہ اُن کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون بن جاتا ہے وہ قانون ساز ،تاریخ ساز ،حکمران ، جرنیل اور قاضی کی حیثیت سے ایک منفرد اور روشن  شخصیت ہیں جسکی مثالی کامرانیوں کی  تقلید کرنا ضروری ہے ۔تاکہ پوری إنسانیت اس سے بھر پور فائدہ اٹھا سکے ،دنیا کو امن کا گہوارہ  بنانے کے لیے ضروری ہے کہ محمّدﷺ کی تعلیمات پر عمل کیا جائے تاکہ تمام عالمی جھگڑوں کا خاتمہ ہو سکے ۔

معصوم نبیﷺکی یہ  عظمت  ہے جس کو غیر مسلم بھی خراج تحسین پیش کرنے میں پیش پیش ہیں ۔

مگر افسوس اس بات پر ہے کہ نبی معصومﷺ کا کلمہ پڑھنے والے اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے رسول اللہ ﷺ کی اتباع ،اطاعت اور  پیروی کرنے سے( زبانی  یا عملی  کسی نہ کسی طریقہ سے ) انکارکرتے ہیں  اور نبی معصومﷺ کی پیروی  نہیں کرتے بلکہ اپنے اپنے مذاہب کے علماء اور مولویوں کی تقلید کرتے ہیں  ۔ غور کیا آپ نے غیر مسلم بھی کہتے ہیں کہ محمّدﷺ کی تقلید و پیروی کی جائے ۔ یہ ہی  عظمت  ہے ہمارے رسولﷺ کی جس کو غیر وں نے بھی واجب الاتباع تسلیم کیا ہے ،مگر اپنے نہ تو ان کی عظمت کی صحیح معنوں میں اشاعت کر سکے اور نہ ہی اتباع کی ۔  بلکہ ان کی شان ،  عظمت اور عصمت کے خلاف ترجمے اور تفاسیر لکھ کر نا اہلی کا ثبوت دیا ۔  

دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے والوں نے  خودفرقہ وارانہ  مذہبی جھگڑوں میں الجھ کر آپس میں ہی قتل وغارت کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ پھر اس پر فخر بھی کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔

  اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین اسلام کی سمجھ عطاء فرمائے اور نبی معصوم ﷺ کو نمونہ بنانے کی توفیق  عطاء فرمائے ،،، آمین  ثم  آمین ،،،  اب فیصلہ آپ  کیجیئے کہ ان  علماء کا  علم کس معیار کا ہے ؟؟؟

                                       یہ انتہائی مختصرترین تحریر ہے ۔                                                        

مزید تحقیق اور تفصیل کے لیے غیر جانب دار ہو کر  قرآن مجید اورصحیح احادیث کا مطالعہ کریں اور     تفسیر قرآن عزیز  و     عصمت رسول ﷺوعظمت رسول ﷺ(مصنف مسعود احمد صاحؒب)  کا مطالعہ کریں

   ماخذ !!!!  تفسیر قرآن عزیز ۔۔۔ از  مسعود احمؒدصاحب

  عظمت رسول ﷺ    و     عصمت رسول ﷺ۔ مسعود احمدؒ صاحب

           ترجمہ   قرآن مجید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مترجم حافظ نذر احمد صاحب  

 (اسلام اوّر چائس)  Islam our choice    

٭  :   جی ۔ایل بیری  لکھتے ہیں    :  ہمیں تاریخ ساز محمّد(ﷺ) کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے ۔ یہ محمّد (ﷺ) کی سیرت اور حدیث ہی ہیں، جنہوں نے اسلام  کو دنیا کی تہذیبوں میں ایک عظیم تہذیب کی حیثیت دی جس کے بعد دنیا کی کوئی تہذیب اسلامی تہذیب کے اثرات  قبول کیئے بغیر نہ رہ سکی ۔

 (ریلیجن آف دی ورڈ )       Religion of The World

٭  :  جی ۔بگنز  لکھتے ہیں    :  کہاں ہیں وہ پوپ آرچ بشپ آف کنٹرابری اور کونسلر آف کانووکیشن ،اسقف ،پادری اور مسیحی قانون بنانے والے جنہو ں نے افریقہ میں غلام بنانے کی اجازت دی  اور جنہوں نے حبشیوں کو غلام بنانا چاہا آج ان کا نام کوئی نہیں جانتا وہ تاریخ  کی گرد  میں لپٹے گمنامی کی نیند سو رہے ہیں ۔ کوئی محقق گرد جاڑ کر إن کا نام تلاش بھی کرتا ہے تو صرف اسلیئے کہ وہ انہیں مطعون  کرسکے ، اور إن کے بھیانک جرائم کا اظہار کر سکے ۔     اس کے ساتھ ساتھ ایک نام ہے محمّد(ﷺ) کا جس نے إنسانیت کو رنگ و نسل  کی زنجیروں سے آزادی عطاء کی ، یہ نام روشن سے روشن تر ہوتا  چلاجا رہا ہے اور اس نام کی تجلیات  پوری دنیا میں پھیلتی  جا رہی ہیں۔

 ( اپالوجی فار محمّد ،اشاعت   ۱۹۲۹ ؁ )    Apology for Mohamet .pub 1929    

٭  :  والٹیئر  لکھتے ہیں     :  آپ(ﷺ) سے بڑاإنسان ،،،،، إنسانیت نواز ،،،،دنیا کبھی پیدا نہ کر سکے گی ۔

     (فلاسفیکل ڈکشنری )        PhilosophiclDictionry       

٭  :  لین پول لکھتے ہیں   :   روئے زمین پر محمّد(ﷺ) جیسا دوراندیش اور صاحب ِ بصیرت کوئی دوسرا  دیکھائی نہیں دیتا۔

  (سٹڈیز  آف  ماسقیو )Studies of  Mosque      

٭  :  البرٹ وایل  لکھتے ہیں    :  محمّد(ﷺ)فاتح تھے اور عرب کے حکمران ۔۔آپ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون کا درجہ رکھتا تھا ، وہ بلا شرکت غیرے اقتدار کے مالک تھے ،  اگر آپ چاہتے تو ساری زندگی دولت  سمیٹ سکتے  اور  عیش و آسائش کی زندگی بسر کر سکتے تھے ۔

لائف  آف محمّد(ﷺ) اشاعت  ۱۹۲۸ ۔    Life of  Mohamed , pub  1928    

٭  :  جارج برنارڈ شا     لکھتے ہیں   : ازمنہ وسطیٰ میں عیسائی راہبوں نے جہالت اور تعصب کی وجہ سے اسلام کی نہایت بھیانک تصویر پیش کی انہوں نے محمّد ﷺ کے خلاف منظم تحریک چلائی ۔   یہ سب راہب اور مصنّف  غلط کار تھے کیونکہ محمّد ﷺ ایک عظیم ہستی اور صحیح  معنوں میں إنسانیت کے نجات دہندہ تھے۔  

  (دی میسنجر ۱۹۵۴ ؁)      The  Massenger , 1954

٭ : آر لی روژ لکھتے ہیں :  آپنے ایک ایسی مثالی ریاست قائم کی  کہ جب پوری دنیا کی ریاستیں اور حکومتیں إسکی تقلید نہیں کرتیں ، إس وقت تک عالمی امن ہر گز  قائم نہیں ہو سکتا  ۔

٭  :  آر لینڈاؤ لکھتے ہیں     :  دنیا اگر اپنے جھگڑوں سے نجات حاصل کرکے اَمن کا گہوارہ بننا چاہتی ہے تو پھر إسے  محمّد (ﷺ) کی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا ۔

   (دی  اسلام  اشاعت   ۱۹۰۹ ؁ )    The islam  , pub : 1909

٭  :  ایچ     میسے   لکھتے ہیں  : اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور آخرت پر ایمان لا کر ہی إنسان کی نجات ہو سکتی ہے اور بنی نوع إنسان کے عظیم ترین نجات  دہندہ

محمّد (ﷺ) ہیں ۔