بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    اللہ تعالی کی طرف سے ملّت اسلامیہ کی اجتماعی خوشی کے لئے سال مین صرف دو ہی دن ہیں۔ان دو کے علاوہ قرآن و حدیث سے نہ کوئی دن ثابت ہے نہ کوئی رات کہ جس میں پوری قوم اجتماعی خوشی منائے۔ لیکن وائے افسوس لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے عطاءکردہ تہواروں پر قناعت نہ کر سکے، کئی اور تہوار نکال لئے اور ان میں بھی عید جیسی خوشی کا اظہار کر نے لگے۔

   یکم شوّال ۲ھ کو اسلامی تاریخ کی سب سے پہلی عید تھی جو مدینہ منورہ کے مسلمین نے منائی، عید کو مسلمین کا قومی جشن قرار دیا گیااور عید ھاہ کی حاضری ہر مرد و عورت پر فرض قرار دی گئی۔

   لوگو ! سوچو، دو عیدیں تھی تم نے کئی بنا ڈالیں، یہاں تم نے دین میں اضافہ کیا، خواتین پر عید گاہ کی حاضری لازمی تھی ، تم نے یہ حاضری غیر ضروری کر دی یا مکروہ قرار دےدی، یہاں تم نے دین میں کمی کردی، غرض یہ کے کمی و بیشی کا اختیار اللہ کے بجائے تم نے اپنے ہاتھ میں لے لیا دین کا کوئی شعبہ تمہاری اس کمی و بیشی سے محفوظ نہیں رہا، چند خود ساختہ رسموں، تہواروں، جلسوں اور جلوسوں کو دین سمجھ لیا گیا، نہ توحید سے کوئی مطلب رہا نہ سنّت سے کوئی واسطہ۔

    عید الفطر کیا ہے، عید انقلاب ہے ، ایک ماہ کے روزوں کے بعد ہر مسلم کی ذہنیت میں ایک انقلاب برپا ہوتا ہے ، روزہ میں جس نظم و ضبط کی تر بیت اس نے پائی اس تربیت نے اس زندگی کے نئے موڑپر لا کرکھڑا کردیا، روزہ میں اس نے حکمِ الہی کی تعمیل میں چند جائز چیزوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی، ہر نیکی کی طرف سبقت کی اور بُرائی سے بچنے کے لئے شدّت کے ساتھ کوشش کی، ہلالِ عید نمودار ہوتے ہی وہ اس تر بیتی دور سے فارغ ہوا، عید کی صبح اس کی نئی زندگی کا آغاز ہوا،اب اس نئی تربیت کے مطابق گیارہ مہینے تک اس کو زندگی گذارنی ہے اور پھر ازسرِ نو تربیت کو تازہ کرنا ہے۔

عید الفطر تربیت حاصل کرنے کے بعد میدان عمل میں قدم رکھنے کا روزِ اولین ہے، اگر ہم نے پہلے ہی دن تقوی کا دامن ہاتھ سے چھور دیاتو پھر غور کرو کہ جس تقوے کے حصول پر ہم خوشی منا رہے ہیں وہ کس درجہ مضحکہ خیز ہے۔ عید الفطر دراصل تربیت کی تکمیل کے بعد روزِ امتحان ہے اگر عید کی خوشی میں ہم احکام الہی کی تعمیل سے غفلت نہیں برتتے تو پھر امید کی جاسکتی  ہے کہ آئندہ بھی ہم غفلت نہیں برتیں گے۔

                ایمان والو !  یہ تمہاری قومی عید ہے تم ایک قوم ہو، ایک جسم ہو، تم سب کا ایک راستہ ہے،ایک منزل ہے، حکمِ اعلیٰ ایک ہے،امام ایک ہے، تو پھر تم نے علیحدہ علیحدہ قومیں کیوں بنا رکھی ہیں۔ علیحدہ علیحدہ مذہب کیوں بنا لئے ہیں، کیوں  علیحدہ علیحدہ نام رکھ چھوڑ ہیں، تم سب مل کر بیٹھو اور متحد ہو جاؤ،اپنے کو صرف مسلم کہو،مقسد میں یکسانیت، طرزِ فکر میں ہم آہنگی پیدا کرو، میدانِ عمل میں اشتراک اور تعاون سے کام لو،آپس میں دست و گریباں ہونا چھوڑ دو،اپنی قوت کو تخریب کے بجائے تعمیر میں صرف کرو، عید الفطر عید تطہیر ہے، اس دن تم اپنی رنجشیں بھلادو، قلب کو بغض سے پاک کر دو، دوسری چیزوں پر مرنے کے بجائے اسلام پر مرنا سیکھو، اور نہ صر ف مرنا سیکھو  بلکہ جینا سیکھو اور یہی مقصدِ حیات ہے جس کو تم بھلا بیٹھے ہو،عید کے دن عہد کرو کہ تم ہر کام اللہ کی خوشنودی کے لئے کرو گے، اور ایک ماہ کی مشق و تمرین سے جو تقوی پیدا ہو چکا ہے اُسے ضائع نہیں ہونے دو گے۔

                   اَللہ اَکبَرُ اَللہ اَکبَرُلاَ اِلٰہ اِلاَّ اَللہ وَ اللہ اَکبَرُ اللہ اَکبَرُ وَ لِلہِ الحَمدُ

                                     مرتبہ:    مسعود احمد

عید الفطر کی اہمیت

غئرئہ شوال اے نور نگاہِ روزہ دار

آکہ تھے تیرے لئے مسلم سراپا انتظار

تیری پیشانی پہ تحریر پیام عید ہے

شام تیری کیا ہے صبحِ عیش کی تمہید ہے