بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مولانا

کااستعمال غیراللہ کےلیےکہنا یا لکھنا جائز ہے؟؟؟ 

لفظ مولیٰ کثیر المعانی ہے، لیکن اس کا اکثر استعمال مالک کے معنوں میں ہوتا ہے اور کیونکہ ہمارا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے لہٰذا ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے اس لفظ ( مولانا) کا استعمال جائز نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں :

تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) ہر گز یہ نہ کہے، میرا بندہ، میری بندی، تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری عورتیں سب اللہ کی بندیاں ہیں ، بلکہ یہ کہے، میرا لڑکا، میری لڑکی، میرا بچہ، میری بچی اور تم میں سےکوئی شخص (کسی کو) یہ نہ کہے، اپنے ربّ کو پانی پلا اور نہ تم میں سے کوئی شخص کسی کو یہ کہے، میرا ربّ، بلکہ یہ کہے، میرا سردار اور میرا مولیٰ ۔

صحیح مسلم کتاب الالفاظ من الادب عن ابی ہریرہ رضى االله تعالى عنه 



اس حدیث میں کسی کو میرا بندہ یا میری بندی کہنے سے منع کیا اور غلاموں اور لونڈیوں کو اپنے مالک کو ربّ کہنے سے منع کردیا ۔ مولیٰ اور سردار کہنے کی اجازت دی لیکن بعد میں مولیٰ و مولانا کےلیے بھی بڑی وضاحت سے ممانعت کی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:

کوئی غلام اپنے آقا کو میرا مولیٰ نہ کہے اس لیے کہ تم سب کا مولیٰ اللہ عزو جل ہے۔

( صحیح مسلم کتاب الالفاظ من الادب عن ابی ہریرہ رضى االله تعالى عنه)



ظاہر ہے کہ پابندیاں آہستہ آہستہ ہی لگائی گئیں ہیں ، لہٰذا اجازت کی حدیث پہلے کی ہے ، اور ممانعت کی بعد کی ، دوسری حدیث نے مولیٰ کے استعمال کی اجازت کو منسوخ کر دیا ۔ جہاں اجازت اور حرمت دونو ں کی دلیل ملتی ہو وہاں حرمت کو تر جیح ہوتی ہے ۔ مشکوک چیز کو چھوڑنے کاحکم دیا گیا ہے ۔


لہٰذا اس اصول کے مطابق بھی مولیٰ کا استعمال غیر اللہ کے لیئے جائز نہ ہو گا ۔ 



اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑے رہو ، وہی تمہارا مولا ہے تو وہ اچھا مولا ہے اور اچھا مدد گار ۔

سورۃ الحج ۷۸ 



الغرض اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کو مولانا کہنا جائز نہیں ہے

(اے اللہ ) تو ہی ہمارا مولیٰ (مولانا ۔ بہترین مدد گار) ہے ،ہمیں کافر قوم پر غلبہ عطاء فرما ۔

 سورۃ البقرہ ۲۸۶  



بعض چیزیں ایک عرصہ سے رائج ہونے کی وجہ سے اس قدر راسخ ہو جاتی ہیں کہ ان کا ترک یا انکار فطرتاً طبیعت پر گراں گزرتا ہے ۔ ان چیزوں کے عدم جواز پر جب دلائل دئیے جاتے ہیں تو بجائے اس کہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کردیا جائے ان پر طرح طرح کے اعتراضات کیئے جاتے ہیں ان کی مختلف قسم کی تاویلیں کی جاتی ہیں اور اس طرح جواز کو برقرار رکھا جاتا ہے ۔ یہ روش اچھی نہیں ہے ۔ 



افسوس صد افسوس کہ اتنے مضبوط دلائل ہونے کے بعد بھی ہمارے مولوی اپنی انا کی خاطر حق کا اظہار 

نہیں کرتے بلکہ حق کو چھپا تے ہیں اور دنیا کی شہرت اور دنیا کے فائدے کی وجہ سے قرآن مجید اور صحیح 

احادیث کو پیش نہیں کرتے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

بے شک جو لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب کو چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں یقین مانو کہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ کرے گا ، نہ انہیں پاک کرے گا ، بلکہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے ۔

( سورۃ البقرہ ۱۷۴ ) 



اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں ، جبکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں 

کی ہدایت لیئے بیان کر چکے ہیں ، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔

(سورۃ البقرہ ۱۵۹) 



ایسی ہولناک وعید کے باوجود اگر کوئی دینِ اسلام کی بات چھپاتا ہے اور قرآن مجید اور صحیح 

احادیث کو لوگوں کے سامنے پیش نہیں کرتا بلکہ اس کے خلاف کرتا ہے تو وہ اپنے لیے آخرت کا نقصان 

کما رہا ہے ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو خالص دینِ اسلام یعنی قرآن مجید اور صحیح احادیث کی سمجھ عطاء فرمائے اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔۔۔

آمین