بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

   قرآن مجید نے  جدید سائنس  کی  بات کو ۱۴۳۲ سال پہلے ہی بتا دیا  

  پروفیسر   جین پیرے پیٹٹ   مشہور فرانسیسی طبیعات دان ہیں اور فرانس کے نیشنل سینٹر برائے سائنٹفک ریسرچ    کے (ریٹائرڈ) سینئر ریسرچر  ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہماری زمین کے  علاوہ بھی دوسرے سیارے پر  عقل رکھنے والی مخلوق آباد ہے جو ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہے ۔ ان کا کہنا ہے  ۱۹۵۰ ء میں یومو  سیارے سے آنے والی مخلوق نے زمین پر پہلا قدم رکھا ۔ اس سے پہلے مشہور مصنف  چارلس بیرلٹز   نے اسی حوالے سے اپنی ایک طویل تحقیق کو “روزویل کا واقعہ”  کے عنوان سے شائع کیا۔ جو   ۱۹۴۷ ء  میں پیش آیا ۔ موجودہ  سائنس دانوں نے  اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس کراہِ ارض کے علاوہ بھی کہیں اللہ کی مخلوق آباد ہے ۔             ہمیں اللہ ربّ العالمین نے ۱۴۳۲ سال پہلے ہی بتا دیا کہ  میں تمام جہانوں کا پالنے والا ہوں  ۔

           (ترجمہ  !! تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔   

  سورۃ الفاتحہ  ۱  

یہاں اللہ تعالیٰ نے عالمین (جمع )   کا ذکر کیا ہے نہ کہ عالم (ایک جہاں )  کا  ۔  سائنسدانوں نے اس پر تحقیق کی تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس آسمان کی اتنی وسعت ہے کہ اس کے اندر اور کئی   کہکشاں ہو سکتی ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو   ۱۴۳۲  سال پہلے بتادیا  کہ کتنے جہاں آباد ہیں ۔     ترجمہ  !!  اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے پیدا کیئے سات آسمان اور آسمان ہی کی طرح سات زمینیں ۔

( سورۃ الطلاق  ۱۲ )   و    ( صحیح بخاری   کتاب بدء الخلق  )

 سائنس کی یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ جو بات ان کو آج معلوم ہوئی ہے وہ بات ۱۴۳۲ سال پہلے قرآن عزیز  میں موجود ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید ہی وہ واحد کتاب ہے جس کی تمام جزیات اللہ خالق و مالک جس نے یہ کائنات پیدا کی ہے اس نے ہی بتائی ہیں ۔ ورنہ یہ اتنی بڑی بات کوئی دوسرا  اتنا عرصہ پہلے کیسے بتا سکتا ہے ؟ اب اس میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے کہ  قرآن مجید اللہ کا کلام نہیں ہے ۔    مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اپنی مقدس کتاب کو سمجھ کر نہیں پڑھتے  ، دن میں بیسیوں مرتبہ نماز میں سورۃ الفاتحہ پڑھتے ہیں مگر نہ تو سجھتے ہیں اور نہ ہی غور  و  فکر  کر تے ہیں  ۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے ساتھ ہمارا یہ رویہ کیا ایمان کی نفی نہیں کرتا ؟  غیر قوموں نے ہماری کتابوں میں سے تخیل( آئیڈیا) لے کر تحقیق کی اور دنیا کے فائدے حاصل کیئے ،  اور ہم فرقہ بندیوں میں الجھ کر آپس کی لڑائی میں اپنی توانائیاں کھو چکے ہیں ۔   اور دین و دنیا کے خسارے کو گلے لگائے ہوئے ہیں۔   

                                                                   و الحمدللہ ربّ العالمین