بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

﴿ سورۃ المدثر : ۴ ، ۵ ﴾


عن ابی مالک الاشعری قال قال رسول اللہﷺ(( الطھور شطر الایمان))

(صحیح مسلم کتاب الطہارت باب فضل الوضوء )


حاصل مطالعہ : اللہ تعالیٰ کے یہ فرمان اُن لوگوں کے لیئے ہیں جو ایمان والے ہیں کہ ان کو پاک صاف رہنا چاہیئے ۔ اس میں کیا کیا حکمتیں پوشیدہ ہیں اس کو انسان ابھی تک پوری طرح سمجھ نہیں سکا پھر بھی کچھ حکمتیں جن سے دنیا میں بہت سے فائدے ہیں ، ان میں سے کچھ انسان نے چودہ سو بتیس سال کے بعد سمجھے ہیں۔


جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے آخری نبی و رسول ﷺ کے ذریعہ بتائے ہیں اگر ہم ان پر بغیر کسی کمی یا زیادتی کے عمل کریں تو اس میں ہمارے لیئے دنیا اور آخرت دونوں میں فائدہ ہے ۔

پاکیزگی اور صفائی و ستھرائی کے لیئے انسان کے لیئے ضروری ہے کہ وہ نہائے دھوئے ، وضوء کرے اور پاک و صاف کپڑے پہنے گندگی سے بچے ، پاک وصاف چیزیں کھائے اور پیئے، صاف ستھری اور پاک و صاف جگہ اور ماحول میں رہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت سی مہلک بیماریوں سے بھی بچ سکتا ہے ۔


بیماریوں پر اُٹھنے والے اخراجات بھی بچ سکتے ہیں ۔


لوگ بھی صفائی رکھنے والے کو پسند کرتے ہیں اور تعریف بھی کرتے ہیں ۔ یہ تو وہ فائدے ہیں جو دنیا میں نظر آتے ہیں ۔


مگر ایمان والوں کے لیئے اس دنیوی مفاد صحت مندی اور تندرستی کے علاوہ انتہائی قیمتی فائدہ جو اس کو اللہ تعالیٰ ثواب کی صورت میں عطاء کرتا ہے ہمیں اُس کو مد نظر رکھنا چاہیئے تاکہ ہمیں دین و دنیا دونوں کا فائدہ حاصل ہو سکے ۔


اس لیئے ضروری ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق انہی طریقوں سے طہارت اور پاکیزگی حاصل کریں جو حکم ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ رسول اللہ ﷺ پہنچا ہے ۔

تو پھر ہمارے لیئے ضروری ہے کہ ہم غسل اور وضوء جیسے دینی فعل کو اسی طرح سر انجام دیں جس طرح ہمیں بتایا گیا ہے ۔

اگر اس میں کمی یا زیادتی کریں گے تو پاکی حاصل کرنے کے مقصد کو نہیں پا سکیں گے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہے۔


بہت سے لوگ صرف شرم کی وجہ سے پوچھنے سے گھبراتے ہیں جبکہ یہ انتہائی ضروری ہے جب تک خالص اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق ہم طہارت حاصل نہیں کریں گے تو ہم پاک نہیں ہوں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیسے کر سکتے ہیں ؟؟؟


اس لیئے ضروری ہے کہ عبادت سے پہلے اس طریقہ سے طہارت حاصل کی جائے جس کو اللہ تعالیٰ نے طہارت قرار دیا ہے ۔


بعض ماڈرن سوسائیٹی کے فیشن پرست لوگ مٹی سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اُن کا یہ نظریہ ہے کہ مٹی سے ہم بیمار ہو جائیں گے ہمیں الرجی ہو جائے گی وغیرہ وغیرہ یہ لوگ صرف فیشن کو ہی اہمیت دیتے ہیں جبکہ ان کے پاس علم اور معلومات نہیں ہوتی یہ صرف ظاہری صاف ستھرا نظر آنے کو اپنی طرف سے صفائی اور پاکیزگی سمجھتے ہیں ۔ یہ ایک انتہائی غلط نظریہ ہے ۔ جبکہ مٹی ہائیلی انٹیبائیوٹک ہے یہ بات ہمیں اللہ کے رسولﷺ نے ۱۴۳۲ سال پہلے بتا دی ہے ۔


ملاحظہ فرمائیں : عبداللہ بن مغفل ؓسے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا کتوں کو مار ڈالنے کا،پھر فرمایا کیاحال ہے ان(لوگوں کا یعنی ان کو کیا ضرورت ہے) اور کیا حال ہے کتوں کا ، پھر اجازت دی شکاری کتا اور ( بھیڑ ،بکریوں وغیرہ) کے گلے (کی حفاظت) کے لیئے پالنے کی ، اور فرمایا جب کتا برتن میں منہ ڈال کر پیئے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی کے ساتھ مانجو ۔

(صحیح مسلم کتاب الطہارت باب حکم ولوغ الکلب، عن عبداللہ بن مغفل و ابو ہریرہؓ )


طبی ماہرین کہتے ہیں کہ کُتے کی آنتوں میں جراثیم اور ۴ ملی میٹر لمبے کیڑے ہوتے ہیں جو فضلے کے ساتھ خارج ہوتے ہیں اور اس کے مقعد کے گرد بالوں سے چمٹ جاتے ہیں ، جب کتا اس جگہ کو چاٹتا ہے تو اس کی زبان اور منہ ان جراثیم سے آلودہ ہو جاتے ہیں ، پھر جب کُتا کسی برتن میں منہ ڈال کر کوئی چیز کھائے یا پیئے یا چاٹے تو وہ برتن اس کے خطرناک جراثیم سے آلودہ ہو جاتا ہے اور یہ جراثیم آگے متحرک رہتے ہیں اور خون کے خلیات میں گھس کر کئی مہلک بیماریوں کا باعث بنتے ہیں ، چونکہ ان جراثیم کی تشخیص خوردبینی ٹیسٹوں کے ذریعہ ہی ممکن ہے اس لیئے اللہ کے رسولﷺ نے ہمیں ان خطرناک جراثیموں سے بچنے کا آسان اور سستا نسخہ بتا دیا ۔ مٹی بہت تیزی کے ساتھ کُتے کے جراثیم کو سو فی صد ختم کرتی ہے ، جس سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ مٹی انسانی صحت کے لیئے نقصان دہ نہیں بلکہ فائدہ مند ہے ۔

جس طرح پانی سے گندگی دھل کر صاف ہو جاتی ہے اسی طرح مٹی بھی گندگی کو ختم کر دیتی ہے ۔اور مضر صحت جراثیم کو ختم کر کے انسان کو بیماریوں سے بچاتی ہے ۔

یہاں بتانا صرف یہ مقصود ہے کہ مٹی مضر صحت نہیں ہے ، ورنہ یہ ایک الگ لمبا سائنسی مضمون ہے ۔


(( تیمم کرنے کا طریقہ ))


عمار بن یاسرؓ نے بیان کیا ۔ ۔ ۔ ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تجھے اتنا ہی کافی تھا اور آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر انہیں پھونکا اور ہاتھوں اور چہرے کا مسح کیا ۔

(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن عمارؓ )


جب تیمم کرے تو پہلے ،،بسم اللہ ،، کہے ۔

(رواہ العمری و سندہٗ صحیح ۔ فتح الباری )


پھر دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ پاک مٹی پر مارے ، پھر دونوں ہاتھوں پر پھونک مارے ۔

(صحیح بخاری و صحیح مسلم عن عمارؓ)


پھر دونوں ہاتھوں کی پشت پر اس طرح مسح کرے ،اُلٹے ہاتھ سے سیدھے ہاتھ کی پشت پر اور سیدھے ہاتھ سے اُلٹے ہاتھ کی پشت پر مسح کرے ، پھر دونوں ہاتھوں سے چپرے پر مسح کرے ۔

(صحیح بخاری عن عمارؓ، و ،رواہ ابو داؤد عن عمارؓ، سکت عنہ الحافظ ۔ فتح الباری ۱؍۴۷۴ ، و ، رواہ الاسماعیلی و سکت عنہ الحافظ۔ فتح الباری ۱؍۴۷۴)


(( تیمم کے متفرق مسائل ))

پانی نہ ہوتو تیمم کرکے صلوٰۃ پڑھنی چاہیئے ۔

(سورۃ المائدہ : ۶، و، النساء : ۴۳)


تیمم صرف وضوء ہی کا قائم مقام نہیں بلکہ غسل کا بھی قائم مقام ہے ۔ اگر پانی نہ ہو اور غسل کرنا ضروری ہو تو تیمم کرکے نماز ادا کرے ۔

﴿ سورۃ التوبہ : ۱۰۸ ﴾


وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ ۔ ﴿ ۴ ﴾ وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ ۔﴿ ۵ ﴾

ترجمہ : اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیئے(۴) ناپاکی(گندگی) سے دور رہیئے

بیشک اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ،اور پاک و صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے

﴾سورۃ البقرہ : ۲۲۲﴿


فِيۡهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّتَطَهَّرُوۡا، وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُطَّهِّرِيۡنَ ۔

ترجمہ : اس میں ایسے لوگ ہیں جو( خوب) پاک وصاف رہنے کو پسند کرتے ہیں اور الله تعالیٰ پاک و صاف ر ہنے والو ں کو ہی پسند کرتا ہے

اور اگر تم میں سے کوئی سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہو تو (ان تینوں صورتوں میں)اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی لے کر (اس سے)اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کر لیا کرو (ایسی صورت میں وضوء یا غسل کی تم کو معافی دی جاتی ہے) بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشش کرنے والا ہے

﴾النساء : ۴۳﴿


اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيۡنَ وَيُحِبُّ الۡمُتَطَهِّرِيۡنَ ۔

ترجمہ

اور اگر تم بیمار ہو (تو تیمّم کر لیا کرو اور) اگر تم سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہو ، یا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہو پھر تمہیں(غسل کرنے کے لیئے) پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمّم کر لیا کرو (یعنی) پاک مٹی سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کر لیا کرو اللہ تم پر کسی قسم کی سختی کرنا نہیں چاہتا بلکہ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے تاکہ تم (اس نعمت اور آسانی کا) شکر ادا کرتے رہو

﴾سورۃ المائدہ :۶﴿


وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ۔

ترجمہ


اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے۔

وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضَىٰۤ اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا

بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ مِّنۡهُمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ وَّلٰـكِنۡ يُّرِيۡدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَ لِيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ۔


ترجمہ

تیمم کب اور کیسے کیا جاتا ہے ؟ 

تیمم غسل اور وضوء کا نعم البدل ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سختی اور مشکل میں نہیں ڈالتا بلکہ وہ ان کے لیئے آسانیاں چاہتا ہے ۔ یہ اللہ ربّ العالمین کی مہربانیاں ہیں کہ وہ ہمیں ایسی نعمتوں سے نوازتا ہے تاکہ ہم اُس کے شکر گزار بندے بن جائیں ۔